رزق کی فروانی کیلئے مجرب وظیفہ

رزق کی کشادگی کا وظیفہ

اللہ رب العزت نے جب یہ کائنات تحلیق کی تو اس کے رزق کا ذمہ خود لیا۔ اللہ رب العزت بہتر جانتے تھے کہ یہ اختیار ایسا ہے کہ جس کو مل گیا وہ کبھی بھی اس کا صحیح استعمال نہیں کرے گا۔ اس لئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
مقام شکر ہے صوفی کہ خدا کے ہاتھ میں ہے روزی
یہ اختیار بھی اگر انسان کے پاس ہوتا تو کیا ہوتا
اس کے لئے ہمیں اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہئے کہ اللہ رب العزت نے ہمارے رزق کا ذمہ خود لیا ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ انسان اپنے آپ کو زمین کی گہرائیوں میں بھی چھپا لے اس کا رزق اس تک ایسے پہنچے گا جس طرح اس کی موت اس تک پہنچ کر رہے گی۔

خیر اگر کوئی انسان یہ چاہتا ہو کہ اللہ رب العزت اس کے رزق میں برکت اور کشائش فرما دے تو اس شخص کو چاہئے کہ اللہ رب العزت ہے ہاں اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور کثرت کے ساتھ استغفار کرے۔ کثرت استغفار رزق میں کشائش کیلئے بہت ہی اثر رکھتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تم اپنے پرودگار کے ہاں توبہ کرو تو وہ تم پر بارشیں برسائے گا ، مال سے تمہاری مدد کرے گا، تمہیں ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے تمہارا گمان بھی نہ ہوگا۔ تمہیں بیٹے عطا فرمائے گا تمہارے باغوں میں پھل لگائے گا، جب اللہ رب العزت نے وعدہ کرلیا تو پھر شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی اسی لئے ہر انسان کو چاہئے کہ وہ روزانہ کثرت کے ساتھ اللہ کے ہاں توبہ کرے سب سے بہتر توبہ یہ ہے۔
استغفراللہ ربی من کل ذنب وتوب الیہ اگر کوئی شخص یہ پوری دعا پڑھے تو بہت ہی اچھا لیکن اگر نہ پڑھ پائے تو صرف استغفراللہ استغفراللہ استغفراللہ ہی پڑھتا رہا کرے کثرت سے مردا کم از کم تین سو تیرہ مرتبہ پڑھنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *